ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جمعیت اہل حدیث کے زیراہتمام کے جی یف میں نصف روزہ اجتماع عام کا انعقاد

جمعیت اہل حدیث کے زیراہتمام کے جی یف میں نصف روزہ اجتماع عام کا انعقاد

Sat, 04 Feb 2017 18:35:11    S.O. News Service

کے جی یف(پریس ریلیز/ایس او نیوز)مقامی جمعیت اہل حدیث کے جی یف کے زیر اہتمام ضلعی جمعیت اہل حدیث کولار،ہوسکوٹہ کی زیر نگرانی میں کے جی یف کی مسجد توحید میں بروز جمعہ بعد نماز عصر نصف روزہ دینی اجتماع عام بزیر صدارت حافظ عبدالعظیم عمری مدنی استاز جامعہ دار لسلام عمرآباد زیر نظامت علیم الدین سلفی منعقد کیا گیا تھا،اس موقع پر اعجاز احمد ندوی اما و خطیب مسجد اہل حدیث چارمینار بنگلور نے اپنے بیان میں کہا کہ دور جہالت میں لڑکیوں کے حقوق پامال کیا جاتا تھا لڑکی کی پیدایش ماہ باپ کی رسوائی کا سبب بنتی ڈر کے مارے انسان لڑکی کو زندہ دفن کردیتا ہمارا ملک بھی ایسے دور سے گزرا ہے ستی کی رسم پرجب کسی کا شوہر کا انتقال ہوتا تو بیوی کو بھی اُسی آگ میں زندہ جلادیا جاتا تھا ستم گر مزید جب عورت اپنے عیام میں پہنچتی تو اُسے گھر سے باہر کردیا جاتا اُسکا کھانا پینا سب کچھ الگ کرکے رسوا کردیا جاتا تھا، اسی طریقہ سے تعاریخ کے پنوں سے معالوم ہوتا ہے کہ عورت نے بہت سے ظلم سہے ہیں،مولانا اعجاج احمدنے کہا کہ اسلام نے دینا کے سامنے عورت کا صحیح تصور پیش کیا اسلام نے بتایا ہے کہ عورت کا وجود جنت میں ہوا جب آدم علیہ سلام اکیلا پن محسوس کر رہے تو اللہ نے انہی سے حضرت حواہ کووجود بخشا تھا،عورت الگ نہیں بلکہ مرد کا ہی ایک حصہ ہے اسی بنیاد پر لڑکیوں کی عزت اور انکہ حقوق کو فراہم کرنا ہماری زمہ داری ہے،افسوس کہ لوگوں نے عورت کا مقام و مرتبہ کو نہیں پہچانا انکہ ساتھ بے وفائی کی مختلف قسم کے ظلم اُن پر ڈھائے مزید بیوا عورتوں کے حقوق کو بھی پامال کئے ایسے دور میں اسلام نے عورتوں پر احسان کیا انکہ حقوق دینے کو ضروری قرار دیا، سر رمین عرب میں اللہ کے رسول محمدﷺ کے ایک فرمان پر کے لڑکیوں کی پیدایش پر جنت کی بشارت سنے کے بعد زندہ دفن کرنے کا رواج بند ہوگیا اور خوشی خوشی ماہ باپ بچیوں کی پروریش شوخ سے کرنے لگے،انہوں نے کہا کہ اسلام میں عورت کا درجہ بہت بڑا ہے ایسا درجہ کسی دوسرے مزہب نے نہیں دیا مگر آج کل ہمارے مزہب پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں کہ اسلام عورتوں کہ حقوق نہیں دیرہا ہے۔ رسولﷺ کا کتنا پیارا فرمان ہے کہ دنیا کی قیمتی شے نیک صالح عورت ہے جسکے پاس یہ نعمت ہو وہ دنیا کا خوش نصیب انسان ہے،آج اگر جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کے مال دولت سب کچھ ہونے کے باوجود اگر نیک بیوی نہ ہوں تو مرد کی زندگی میں رسوائی چھائی رہتی ہے وہیں دیکھیں تو ایک غریب کے پاس اگر نیک بیوی ہوں تو وہ پوری زندگی ہسی خوشی میں گزارتا ہے،مولانا نے کہا کہ مرد حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنا بچیوں کی پروریش صحیح ڈھنگ سے کریں اس سے آپ کی بیٹی نیک ہوگی بعد میں وہ نیک بیوی بنکر اپنے شوہر کی قدمت کریگی،پھر وہ ایک نیک ماہ بنکر اولاد کی صحیح تربیت کرئیگی تب جاکر معاشرہ میں سدھار آئیگا۔حافظ عبدالرحمان خان عمری نے اپنے بیان میں کہا کہ شریعت کا حکم ہے کے رسولﷺ جو دیں وہ لیلیں جسسے منع فرمائے اسے ترک کردیں اسی میں انسانی کی بھلائی ہے، سنتوں کا اہتمام کرنے سے انسان کی کامیابی یقینی ہے ہمیں چاہئے کہ عبادات کی سنتوں کے ساتھ ساتھ دیگر معاملوں میں اللہ کے رسولﷺ کی سنتوں کا اہتمام کرناچاہیے اکثر دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے شادیاں سنت کے خلاف اُٹھنے بیٹھنے،کھانے پینے میں اور بھی کئی جگھوں پر ہم سنت پر چلنے کو ضروری نہیں سمجھتے جبکہ قدم قدم پر سنت کا اہتمام کرنا چاہئے اسی میں ہمارے بھلائی ہے، اس موقع پر عبدالعظیم عمری عباد ت کسکی اور کیسے کے عنوان پر صدارتی خطاب میں کہا کہ اللہ نے ہمیں سوچھنے کے لئے عقل دی ہے اس کے باوجود ہم اندھے پن کا شکار ہیں اُس مالک کی پہچان ہمیں نہیں ہے عبادت کسیکی اور کیسے کی جائے اسکی ہمیں کوئی فکر نہیں ہے جبکہ دنیا میں دیکھا جائے تو انگنت مختلف قسم کے مخلوقات کو اللہ نے وجود میں لایا ہے وہ سب صرف اللہ کی حمد و ثناہ کرتے رہتے ہیں افسوس کے انسان جسے اللہ نے عقل سے نوازہ آج نہ جانے کس کسی کی عبادت کر رہا ہے یہ انسان کے لئے بہت ہی نقصان کی بات ہے ہمیں چاہئے کہ اللہ کی دی ہوئی عقل کا استعمال کرکے عبادت کس کی اور کیسے کی جائے کو سیکھنا ہے۔اس موقع پر کولار،چکبالاپور سمیت دیگر حصوں سے کثیر تعداد میں لوگ شریک رہے اجتماع میں خواتین بھی کثیر تعاداد میں شریک تھیں جنکو پرد ے کا معقول بندوبست کیا گیا تھا۔اس موقع پر جمعیت اہل حدیث کولار کے امیر عبدالجلیل صاحب بھی موجود تھے۔
 


Share: